کوئٹہ (آئی آر کے نیوز): بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گذشتہ اتوار سے جاری احتجاجی دھرنا مغوی افراد کی بازیابی اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ساتھ مذاکرات کے بعد ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ زیارت میں 30 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف جاری دھرنا دوسرے روز میں داخل ہو گیا ہے۔
ہنہ اوڑک کے علاقے ببری میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے کے خلاف شروع کیے گئے اس دھرنے کے شرکا کا کہنا تھا کہ حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 11 افراد کو اغوا کر لیا گیا تھا۔
کوئٹہ کی ایئرپورٹ روڈ پر بی اے مال کے سامنے جاری دھرنے کے تین اہم مطالبات تھے: علاقے کو مسلح افراد سے پاک کرنا، مغوی افراد کی بحفاظت بازیابی اور ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی۔
گذشتہ شب اس وقت اہم پیش رفت سامنے آئی جب اغوا کیے گئے تمام افراد کو رہا کر دیا گیا۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ تمام مغوی افراد بازیاب کر لیے گئے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق مغویوں کی رہائی میں قبائلی اور مذہبی رہنماؤں نے اہم کردار ادا کیا اور انھوں نے اغوا کاروں کے ساتھ مذاکرات کیے۔
