واشنگٹن (آئی آر کے نیوز): امریکی صدر نے گزشتہ روز سعوی عرب کے ساتھ 30 سالہ جوہری معاہدے کی منظوری دی تھی جس پر اسرائیل نے روایتی واویلا مچایا اور آج ٹرمپ نے نئی شرط رکھ دی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری تعاون کا معاہدہ اس وقت تک حتمی منظوری حاصل نہیں کرے گا جب تک سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں لاتا۔
ان خیالات کا اظہار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کیا کہ انھوں نے مزید کہا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر عسکری مقاصد کے لیے ہوگا اور نہ ہی اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت دی جائے گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے تحت کسی بھی قسم کی یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی جیسا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ طے پانے والے امریکی سول نیوکلیئر تعاون کے ماڈل میں بھی شامل ہے۔
یاد رہے کہ اس معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب کے شہری ضروریات جیسے بجلی کی پیداوار وغیرہ کے لیے جوہری پروگرام میں جدید ٹیکنالوجی، تکنیکی مہارت اور دیگر معاونت فراہم کریں گی۔
