اسلام آباد (آئی آر کے نیوز): سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سردار علی امین گنڈاپور کی بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سابق وزیر اعظم عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کر کے صوبائی امور پر مشاورت کی اجازت دینے کی درخواست واپس کر دی۔
تفصیلات کے مطابق رجسٹرار آفس نے درخواست میں باقاعدہ دستخط شدہ وکالت نامے کی عدم موجودگی اور قانونی نقائص کو بنیاد بنا کر درخواست ناقابلِ سماعت قرار دی۔
یہ درخواست آئین کے آرٹیکل 184(1) کے تحت دائر کی گئی تھی، جو سپریم کورٹ کو یہ اصل دائرہ اختیار دیتا ہے کہ وہ 2 یا زائد حکومتوں کے درمیان تنازعات کو اعلامی فیصلوں کے ذریعے حل کرے۔
اپنی درخواست میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے وفاقی حکومت کو ہدایت دینے کی استدعا کی تھی کہ انہیں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ صوبائی حکومتی معاملات پر رہنمائی اور مشاورت حاصل کی جا سکے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ عمران خان کو اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں غیر قانونی طور پر قید رکھا گیا ہے۔
درخواست میں وفاقی حکومت کو بذریعہ وزارت داخلہ، پنجاب کے چیف سیکریٹری اور اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو فریق بنایا گیا تھا۔
یہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی دوسری کوشش تھی، اس سے قبل 25 جون کو علی امین گنڈاپور نے ایک کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں داخل ہو کر سینئر جج جسٹس سید منصور علی شاہ کی فوری توجہ اس جانب مبذول کرائی تھی کہ انہیں صوبائی بجٹ پر مشاورت کے لیے عمران خان سے ملاقات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو کئی ماہ سے پی ٹی آئی کے بانی سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔
علی امین گنڈاپور نے سپریم کورٹ میں ایک اور اسی نوعیت کی درخواست بھی دائر کی تھی جس میں یہ استدعا کی گئی تھی کہ وفاقی حکومت، پنجاب کے چیف سیکریٹری اور اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو پابند کیا جائے کہ وہ ان کی عمران خان سے ملاقات کا انتظام کریں۔
ان کا مؤقف تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان تک باقاعدہ رسائی سے انکار آئین کے آرٹیکل 9 اور 10 اے کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ عدالت عظمیٰ یہ حکم دے کہ فریقین ملاقات کے حقوق سے متعلق کسی بھی عدالتی فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنائیں، کیونکہ وزیر اعلیٰ کا منصب پارٹی کے بانی چیئرمین سے مشاورت کا تقاضا کرتا ہے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ ملاقات پر پابندی پی ٹی آئی کے کارکنوں اور حامیوں کے جمہوری حقوق کو متاثر کرتی ہے، جو پاکستان کی آبادی کے ایک چوتھائی سے زائد کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسی موضوع پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی سابقہ درخواستوں کی ناکامی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ سپریم کورٹ کی مداخلت نہایت ضروری ہے۔