خیبرپختونخوا میں سیاسی تبدیلی کی بازگشت، گورنر اور اپوزیشن رہنماؤں کی مشاورت

 گورنر فیصل کریم کنڈی اور امیر مقام کو مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات اور مشاورت کا ٹاسک دیا گیا ہے — فائل فوٹو: ڈان نیوز

پشاور (آئی آر کے نیوز): گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر امیر مقام نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی، جس میں صوبے کی موجودہ سیاسی صورت حال اور اپوزیشن جماعتوں کے مجوزہ اجلاس پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی زیر قیادت حکومت میں ممکنہ تبدیلی کے پیشِ نظر، گورنر جلد ہی اپوزیشن رہنماؤں کا اجلاس بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مشاورت اور سیاسی جوڑ توڑ کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔

دریں اثنا گورنر فیصل کریم کنڈی نے سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی رہائش گاہ جا کر ان کی ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت کی، جبکہ چند روز قبل وہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے بھی ملاقات کر چکے ہیں۔

جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا غفور حیدری نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی جماعت کسی غیر آئینی اقدام، جیسے صدارتی حکم یا گورنر راج، کی حمایت نہیں کرے گی، تاہم تحریک عدم اعتماد جیسے آئینی عمل پر غور کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا میں اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے اور گورنر کو ہدایت دی ہے کہ وہ نئی حکومت کی تشکیل کے لیے اپوزیشن اراکین سے مشاورت کا عمل تیز کریں۔

گورنر اور امیر مقام کو مولانا فضل الرحمٰن سے مزید مشاورت کا ٹاسک بھی سونپا گیا ہے تاکہ اپوزیشن کو متحد کر کے ممکنہ تحریک عدم اعتماد کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر اقبال اللہ نے بھی گورنر سے ملاقات کی تھی، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر محمد علی شاہ باچا بھی شریک تھے۔ اس ملاقات میں صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال، آزاد اراکین کی سرگرمیوں اور سینیٹ انتخابات سے متعلق مشاورت کی گئی۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کی سیاست میں آئندہ چند روز اہم پیش رفت لا سکتے ہیں، جہاں اپوزیشن کی کوشش ہے کہ آئینی طریقے سے تحریک انصاف کی حکومت کو چیلنج کیا جائے۔

جدید تر اس سے پرانی