پیرس (آئی آر کے نیوز): فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے رواں برس مئی میں پیش آنے والی پاک بھارت جنگ کو حالیہ عشروں کی سب سے سنگین فضائی جھڑپوں میں سے ایک قرار دے دیا۔ انہوں نے اس جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے تنازعات کو دفاعی اخراجات میں اضافے کی بنیادی وجہ قرار دیا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق فرانس کے صدر نے اتوار کے روز دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2017 میں فرانس کا فوجی بجٹ 32 ارب یورو تھا، جسے بڑھا کر 2027 تک 64 ارب یورو تک لے جایا جائے گا۔ یہ اضافہ 2030 کے طے شدہ ہدف سے تین سال قبل حاصل کیا جائے گا۔
صدر میکرون نے عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت بڑی جنگوں اور تنازعات کے دہانے پر کھڑی ہے۔ انہوں نے ایران پر بمباری، یوکرین جنگ، اور بھارت و پاکستان کے درمیان جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ پاک بھارت تصادم میں شاید دہائیوں کی سب سے شدید فضائی لڑائی دیکھنے میں آئی۔
فرانسیسی صدر کے مطابق ان تمام تنازعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ موجودہ عالمی منظرنامے میں خودمختار رہنے کے لیے طاقتور ہونا ناگزیر ہے، اور ایک مضبوط قوم ہی خود کو عالمی دباؤ سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
یاد رہے کہ مئی میں بھارت کی جانب سے پاکستان اور آزاد کشمیر کے پانچ مختلف مقامات پر فضائی حملے کیے گئے تھے، جن کا پاکستان نے مؤثر اور فوری جواب دیا تھا۔ پاکستانی فضائیہ نے بھارت کے پانچ طیارے مار گرائے تھے، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی تھی، تاہم عالمی دباؤ کے باعث فریقین نے مزید کشیدگی سے گریز کیا۔
صدر میکرون کے بیان کو بین الاقوامی سطح پر خاصی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ یہ پہلی بار ہے کہ کسی یورپی طاقت کے سربراہ نے پاک بھارت حالیہ جنگ کو اس شدت کے ساتھ تسلیم کیا ہے۔