اسلام آباد ہائیکورٹ؛ عمران خان کی پارٹی رہنماؤں سے ملاقات نہ کروانے کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

 pti founder imran khan photo file


اسلام آباد (آئی آر کے نیوز): بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی شیڈول کے مطابق جمعرات کو پارٹی رہنماؤں سے ملاقات نہ کروانے کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس راجا انعام امین منہاس نے سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر سماعت کی، جس میں عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔

دورانِ سماعت وکیل نے دلائل دیے کہ چیف جسٹس اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے جیل ملاقات سے متعلق آرڈرز پاس کیے ہوئے ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بھی نوٹس ہوا ہے، ان سے جواب مانگا گیا ہے۔ عمران خان کی بشریٰ بی بی سے ملاقات کا بھی آرڈر موجود ہے۔ ہمارا اڈیالہ جیل حکام سے طے ہوا تھا کہ منگل کو فیملی، وکلا اور جمعرات کو دوستوں کی ملاقات ہوگی۔

جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ جو استدعا ہے اس میں ایک آرڈر ہے، رجسٹرار آفس کا اعتراض بھی ہے۔

وکیل نے بتایا کہ 6 فروری کا آرڈرہے اور یہ جو تمام آرڈرز ہیں ان پر عمل نہیں کیا جارہا۔ ایک درخواست کل چیف صاحب کے پاس لگی ہے، صبح سپرنٹنڈنٹ نے پیش ہونا ہے۔ اس درخواست کے ساتھ عدالت کے دونوں فیصلے منسلک ہیں، باقی آرڈرز ان سے متعلق نہیں ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ کا اپنا بیان بھی موجود ہے، جس کی روشنی میں 8 نومبر کا آرڈر بھی ہے۔

جسٹس راجا انعام امین منہاس نے کہا کہ چلیں دیکھ لیتے ہیں، میں اس درخواست پر باضابطہ آرڈر جاری کروں گا۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد جیل ملاقات سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

 

دوسری جانب، فیصل چوہدری نے میڈیا سے  گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات نہ کروانے سے متعلق درخواست چیف جسٹس کی عدالت میں لگی ہوئی ہے، دوستوں اور وکلاء سے ملاقات نہ کروانے کی درخواست راجہ انعام امین منہاس کی عدالت میں تھی، نومبر کے بعد سے دوستوں کی ملاقات نہیں کروائی جارہی۔ کبھی ملاقات نہیں کرواتے کبھی پولیس ایکشن ہوجاتا ہے، جیل اتھارٹیز کے اس رویے پر عدالت سے رجوع کیا گیا، درخواست پر جج صاحب نے کہا عدالت اس پر آرڈر پاس کرے گی، فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔ 

 

 

جدید تر اس سے پرانی