
اسلام آباد (آئی آر کے نیوز): وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو ہفتے میں 3 دن گوشت، سبزیاں، دالیں، چقندر کا جوس مل رہا ہے، اس کے علاوہ کافی، بوائل انڈے اور خشک میوہ جات کھانے کو ملتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عمران خان
اور بشریٰ بی بی کو جیل میں کھانا نہ دینے کا بیان من گھڑت اور بے بنیاد ہے، دونوں
میاں بیوی کو معمول کے مطابق کھانے پینے کے لوازمات مہیا کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے عمران خان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص دوپہر 12 بجے اٹھتا ہو، وہ روزہ کیسے رکھ سکتا ہے؟
عظمیٰ بخاری کے مطابق بشریٰ بی بی کا کھانے کو جو دل چاہتا وہ مہیا کیا جاتا ہے، پشاور میں بیٹھے ایک شخص کو خواب آیا ہے کہ ان کے جیل میں بیٹھے آ قا کو کھانا نہیں مل رہا۔ دو روز قبل ان کی جماعت کے ترجمان نے بھی بانی پی ٹی آئی کی بیماری سے متعلق جھوٹ بولا۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ کل پمز کے 4 سینئر ڈاکٹروں کی ٹیم نے آدھا گھنٹہ ان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا ہے۔
عمران خان مکمل صحت مند ہیں۔
خیال رہے کہ اپنے حالیہ بیان میں بیرسٹر سیف نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سحری و افطار میں کچھ فراہم نہیں کیا جا رہا اور دونوں کو مجبوراً نہار منہ روزہ رکھنا پڑ رہا ہے۔ حکومت کے اوچھےہتھکنڈوں کے باعث عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔
مشیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان سےملاقاتوں پر پابندی رمضان میں کارکنوں کو اذیت دینا ہے، ملاقاتوں پر پابندی عدالتی احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب، پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے الزامات کے بعد پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں سابق ویراعظم عمران خان کا طبی معائنہ کیا ہے۔
ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پمز کی ٹیم نے بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کرنے کے لیے اڈیالہ جیل کا دورہ کیا، جہاں عمران خان کا چیک اپ 30 منٹ تک جاری رہا جبکہ جیل ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں نے بانی پی ٹی آئی کو کچھ دوائیاں تجویز کی ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ یہ جانچ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے حال ہی میں لگائے گئے الزامات کے بعد کی گئی ہے، خاص طور پر اس کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے عمران خان کو ڈیتھ سیل میں رکھا ہے اور ان کی طبیعت خراب ہونے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔
پی ٹی آئی کے ایک اور رہنما نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کو ان کی بہنوں یا دیگر رشتہ داروں سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان کا طبی معائنہ کرنے کیلئے 4 رکنی ٹیم کی سربراہی ای این ٹی اسپیشلسٹ ڈاکٹر الطاف حسین نے کی، ٹیم کے دیگر ارکان میں ہسپتال کے ڈینٹل ڈپارٹمنٹ کے ڈاکٹر عمر فاروق، جنرل میڈیسن کے ڈاکٹر محمد علی عارف اور جنرل سرجری کے ڈاکٹر تاشفین امتیاز شامل تھے۔