کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کے لیے اسپاٹ پروکیورمنٹ میں ایک ارب 15 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

پی اے سی کے اجلاس میں آڈیٹر جنرل اجمل گوندل نے تمام محکموں میں فنانشل مینجمنٹ میں شفافیت پر زور دیا — فائل فوٹو

اسلام آباد (آئی آر کے نیوز): کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کیلئے اسپاٹ پروکیورمنٹ میں ایک ارب سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیتے ہوئے نظام اور طریقہ کار کی خامیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے، جس کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے۔

 آڈٹ حکام کے مطابق جنید اکبر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے دوران کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کے لیے اسپاٹ پروکیورمنٹ میں ایک ارب 15 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔

پی اے ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر راجا علی رضا انور نے خریداری کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تمام خریداریاں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے قواعد و ضوابط کے مطابق کی گئیں۔

پی اے سی اراکین نے اجلاس میں وزارت قانون کے نمائندوں کی عدم موجودگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور متعلقہ سیکریٹری کو آئندہ اجلاسوں میں شرکت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

مزید برآں، پی اے سی نے تمام سرکاری اداروں اور وزارتوں کی جانب سے خریداری کے قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی اہمیت پر زور دیا، اور ہدایت کی کہ خریداری کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے عہدیداروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔

 

جدید تر اس سے پرانی