اسلام آباد (آئی آر کے نیوز): سینیٹرز کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بلیو پاسپورٹ دینے کا ترمیمی بل ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
ان کا اتفاق صرف اپنی تنخواہوں، مراعات، الاؤنسز اور بلیو پاسپورٹ کے معاملے پر ہوتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کبھی یہی اتفاق غریب عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے، لیوی کے نام پر عوام پر مسلط ڈاکا ٹیکس ختم کرنے، تعلیم اور صحت کی سہولیات بہتر بنانے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے بھی نظر آیا ہے؟ کیا کبھی ان ایوانوں میں غریب کے چولہے کی فکر کی گئی؟ کیا کبھی عوام کی بے روزگاری، بھوک، بدترین معاشی حالات اور ناقابلِ برداشت مہنگائی کے خاتمے کے لیے بھی اسی یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا؟ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے اور اشرافیہ کی مراعات میں اضافے کے لیے تو سب ایک صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں، مگر عوام کو ریلیف دینے کی باری آئے تو یہی اتفاق کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ یہ پارلیمنٹ پاکستانی قوم کے احساسات و جذبات کی ترجمان نہیں، بلکہ مافیا کے مفادات کی نگہبان ہے۔ یہاں عوام کے مسائل سے زیادہ اشرافیہ کے مفادات کو تحفظ حاصل ہے، غریب کے حقوق سے زیادہ حکمران طبقے کی مراعات عزیز ہیں۔ پارلیمنٹ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ یہ عوامی نمائندگی کا ایوان نہیں بلکہ شرافیہ کے نام پر قائم بدمعاشیہ کی آماجگاہ ہے۔
