پی ٹی آئی میں دراڑیں؛ سینئر رہنماؤں کے ایک دوسرے پر الزامات اور دھمکیاں

 


پشاور (آئی آر کے نیوز): پی ٹی آئی میں دراڑیں ظاہر ہونا شروع ہو گئیں، پارٹی کے سینئر رہنما ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگانے کے ساتھ دھمکیاں دینے پر اتر آئے۔

پاکستان تحریک انصاف میں سلمان اکرم راجہ کی سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد اختلافات سامنے آگئے، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی نے ان کے مؤقف پر سخت تنقید کی ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے اپنی پوسٹ میں کسی سازشی بیانیے پر یقین نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جنید اکبر کے بعد علی اصغر قائم مقام صوبائی صدر ہیں۔ انہوں نے وسوسے پھیلانے والوں کو سانپ اور سنپولیے قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں شکست ہوگی۔ پارٹی کے اندرونی اتفاق پر غیر جمہوری فیصلہ سازوں کا حملہ ہے۔

اسی اثنا میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا پارٹی گروپ میں آڈیو پیغام بھی لیک ہوا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ یہ پارٹی کسی کے باپ کی نہیں ، یہاں فیصلے بانی چیئرمین نے کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی کا ہر حکم پہلے بھی من و عن مانا گیا ہے اور آئندہ بھی مانا جائے گا۔ علی امین گنڈاپور نے سلمان اکرم راجہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی پر سانپ اور سنپولیے ہونے کے الزامات لگانا ان کا اختیار نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سمجھ جاؤ اس بات کو، اگر آپ کو سمجھ نہیں آ رہی تو سمجھانے کے طریقے ہیں ہمارے پاس۔ اگر ایک عہدہ آپ کو ہضم نہیں ہو رہا تو ہاضمے کی دوائی ہے ہمارے پاس۔ علاوہ ازیں خیبرپختونخوا اسمبلی کے پی ٹی آئی ارکان نے بھی سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ارکان اسمبلی نے کہا کہ مشکل ترین سیاسی حالات میں منتخب نمائندوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے ان پر الزامات عائد کرنا افسوس ناک ہے۔ صوبے کے نمائندے سیاسی دباؤ، مقدمات اور گرفتاریوں جیسے چیلنجز کا سامنا کررہے ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی