اسلام آباد (آئی آر کے نیوز): پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا، چئیرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی، حکومتی و اپوزیشن اراکین کی بڑی تعداد اجلاس میں شریک ہوئی۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق کاغذات مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کیے گئے، صدر مملکت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق کاغذات آرٹیکل232کی شق 7کے تحت مشترکہ اجلاس کے سامنے رکھے گئے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے کاغذات آرٹیکل 234کی شق 3 کے تحت مشترکہ اجلاس میں پیش کیے گئے، وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق صدارتی اعلان مشترکہ اجلاس میں پیش کیے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کا دلخراش واقعہ آیا، چھت گرنے سے بچے اور اساتذہ شہید ہوئے، پشاور اسکول واقعے میں شہید ہونے والے بچوں کیلئے دعاء مغفرت کی گئی، بچوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کے لیے فوائد معطل کرنے کی تحریک مشترکہ اجلاس میں پیش کی گئی، تحریک وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پیش کی۔
صدر مملکت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کی قرارداد مشترکہ اجلاس میں پیش کی گئی، اپوزیشن اراکین نے پارلیمنٹ کے سیشن میں احتجاج شروع کردیا۔ اپوزیشن اراکین بازووں پر کالی پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شریک ہوئے، اپوزیشن نے گنتی چیلنج کر دی۔ اسپیکر نے قرارداد کے حق اور مخالفت میں اراکین کو گننے کی ہدایت کی، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی قرارداد کے حق میں 214اراکین نے حمایت کی، 56اراکین نے قرارداد کی مخالفت کی۔
