اسلام آباد (آئی آر کے نیوز): سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ نے وفاقی وزارتوں میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبوں سے غیر آئینی طور پر حاصل کیے جانے والے فنڈز کی نگرانی مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے ذریعے کی جائے۔
ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ آئین پاکستان 1973ء کو نظر انداز کرتے ہوئے کابینہ میں موجود ’نارووال گینگ‘ نے 3 برس کے لیے قابل تقسیم پول میں صوبوں کے حصے کو منجمد کر دیا اور آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت صوبوں سے گرانٹس بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں وفاقی حکومت کے مالیاتی انتظام کی خامیاں واضح طور پر سامنے آئی ہیں، جن میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں، کمزور نگرانی، رقوم کی عدم وصولی، غیر مجاز اخراجات اور حکمرانی کی ناکامیاں شامل ہیں۔
