چلاس (آئی آر کے نیوز): ضلع دیامر کے بالائی اور دور افتادہ علاقوں میں کلاؤڈ برسٹ اور موسلادھار بارشوں کے بعد آنے والے ہولناک سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ پولیس اور مقامی انتظامیہ کی رپورٹس کے مطابق چلاس کی وادی کھنبری میں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے، جہاں سیلابی ریلے اپنے ساتھ بھاری ملبہ اور درخت بہا لے گئے، جس کی زد میں آ کر درجنوں مکانات، کھڑی فصلیں اور باغات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ اس کے علاوہ تحصیل داریل کی وادیاں منیکال، شاہی محل، بیچھے نالہ اور لنچر بھی شدید سیلابی صورتحال کا شکار ہیں جس سے ہر طرف تباہی پھیل گئی ہے۔
پولیس حکام نے خبردار کیا ہے کہ مختلف مقامات پر سڑکیں اور راستے بہہ جانے کے باعث ان دور افتادہ وادیوں کا زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں وادی کھنبری میں کھانے پینے کی اشیاء اور راشن کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر کھنبری اور داریل کے محصور عوام نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ بند سڑکوں کو ہنگامی بنیادوں پر بحال کیا جائے تاکہ ان تک رسائی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب، تباہی کی اطلاع ملتے ہی پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) دیامر کی ٹیمیں متحرک ہو گئی ہیں اور متاثرہ بالائی علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ پی ڈی ایم اے حکام کا کہنا ہے کہ متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور ان تک فوری امداد پہنچانے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم راستے بند ہونے کی وجہ سے ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
