وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف نازیبا زبان استعمال کرنیوالے شہری کی بازیابی کی پٹیشن پر جواب طلب

 عدالت نے حکم دیا کہ اگر مغوی پولیس کی تحویل میں ہے تو کل بحفاظت عدالت میں پیش کیا جائے
—فوٹو: اسکرین گریب/فیس بک

لاہور (آئی آر کے نیوز): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور آرمی چیف کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والے ساجد نواز کی بازیابی کے لیے ان کے بیٹے عمر ساجد نے سیشن کورٹ لاہور سے رجوع کر لیا۔ عمر نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے والد کو پولیس نے بغیر کسی مقدمے کے دو دن سے حراست میں رکھا ہوا ہے۔

درخواست کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج غلام فرید نے کی۔ عدالت نے پولیس کو 15 جولائی تک جواب جمع کرانے کا حکم دیا اور کہا کہ اگر مغوی پولیس کی تحویل میں ہے تو اسے کل عدالت میں پیش کیا جائے۔

درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ سمیر خان خٹک اور ایڈووکیٹ نعمان سرور ڈوگر عدالت میں پیش ہوئے۔ درخواست میں کہا گیا کہ جوہر ٹاؤن پولیس نے ساجد نواز کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا ہوا ہے، نہ تو ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہے اور نہ ہی انہیں کسی عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

عمر ساجد نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے ان کے والد سے زبردستی معافی کی ویڈیوز بنوا کر سوشل میڈیا پر جاری کی ہیں، جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

فاضل عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے پولیس سے وضاحت طلب کی اور حکم دیا کہ اگر ساجد نواز پولیس کی تحویل میں ہیں تو انہیں 15 جولائی کو عدالت میں بحفاظت پیش کیا جائے۔ مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔

یاد رہے کہ حالیہ بارش کے بعد سڑک پر جمع پانی سے موٹرسائیکل پر گزرتے ہوئے ساجد نواز کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔ بعد ازاں ساجد نواز کی ایک اور ویڈیو منظرِ عام پر آئی، جس میں انہوں نے اپنے الفاظ پر معذرت کرتے ہوئے معافی مانگی تھی۔ سوشل میڈیا صارفین نے اسے ’سافٹ ویئر اپڈیٹ‘ قرار دیا تھا۔

جدید تر اس سے پرانی