اسلام آباد (آئی آر کے نیوز): قومی ایئر لائن کی نجکاری کے لیے نجکاری کمیشن نے چار کمپنیوں کو نیلامی میں شرکت کی منظوری دے دی ہے، جلد نیلامی کی تاریخ طے کی جائے گی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس چیئرمین فاروق ستار کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں پی آئی اے کی نجکاری سمیت بجلی کے مسائل اور پوسٹل لائف انشورنس کے معاملات زیر غور آئے۔
سیکریٹری نجکاری کمیشن عثمان باجوہ نے کمیٹی کو بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں پانچ پارٹیوں نے دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے درخواستیں جمع کرائیں، جن میں سے چار پارٹیوں کو اسکروٹنی کمیٹی نے نیلامی میں شرکت کی اجازت دے دی ہے۔ ان پارٹیوں کو قومی ایئر لائن کے دفاتر میں اکاؤنٹس اور آپریشنز کا جائزہ لینے کی اجازت دی گئی ہے، جس کے بعد بولی کی حتمی تاریخ طے کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پی آئی اے کی نجکاری رواں سال کی آخری سہ ماہی تک مکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تاہم سرمایہ کاروں کی مکمل تسلی کے بعد ہی یہ عمل مکمل ہوگا۔ خطے کی دیگر ایئر لائنز کو بھی اس نیلامی میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، جب کہ پاکستان کے بڑے کاروباری گروپ بھی اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی فاروق ستار نے سوال اٹھایا کہ کیا پنجاب حکومت بھی پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی رکھتی ہے؟ جس پر سیکریٹری نجکاری نے وضاحت کی کہ پنجاب حکومت اپنی الگ ایئر لائن بنانے کی خواہاں ہے اور انہوں نے پی آئی اے کی نجکاری میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔
اس موقع پر چیف ایگزیکٹو آفیسر پی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ پی آئی اے کی فرانس کے لیے پروازیں بحال کر دی گئی ہیں، جب کہ مانچسٹر کی پروازیں بھی جلد شروع ہونے والی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں پی آئی اے کے حالات بہتر ہوئے ہیں۔
سیکریٹری نجکاری نے یقین دہانی کرائی کہ نجکاری کے عمل کے دوران پی آئی اے ملازمین کے روزگار کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نجی سرمایہ کار کو قومی ایئر لائن کے موجودہ 19 طیاروں کے بیڑے کو بڑھا کر 45 تک لے جانے کی شرط دی جائے گی۔