واشنگٹن (آئی آر کے نیوز): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کی سہ پہر وائٹ ہاؤس کے لان میں اپنے متنازع مالیاتی بل پر دستخط کرتے ہوئے یومِ آزادی کو سیاسی فتح کے جشن میں تبدیل کردیا۔
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے کئی ہفتوں کی جدوجہد اور پارٹی دباؤ کے بعد بالآخر اس بل کی منظوری حاصل کی، جس میں طبی سہولتوں میں کٹوتیاں، بجٹ خسارے میں اضافہ اور آئندہ انتخابات میں سیاسی نقصانات جیسے خدشات شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنی اہلیہ میلانیا کے ہمراہ بالکونی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے جو وعدے کیے، وہ پورے کیے‘‘۔ تقریب میں بمبار طیارے کی پرواز اور آتش بازی کا مظاہرہ بھی شامل تھا۔
اس موقع پر کانگریس کے ارکان، فوجی خاندانوں اور دیگر مہمانوں کو مدعو کیا گیا۔ ٹرمپ نے اس قانون سازی کو ’’ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا بل‘‘ قرار دیا۔
وائٹ ہاؤس ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے ریپبلکن ارکان کو راضی کرنے کے لیے ذاتی سطح پر کوششیں کیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بل کے خلاف صرف دو ووٹ آئے۔
بل میں 45 کھرب ڈالر کی ٹیکس چھوٹ اور اخراجات شامل ہیں، جبکہ اخراجات کی تلافی کے لیے میڈیکیڈ اور فوڈ اسٹیمپ جیسے سماجی پروگراموں میں بھاری کٹوتیاں کی گئی ہیں۔ کانگریس کے بجٹ دفتر کے مطابق یہ بل 33 کھرب ڈالر کے اضافی بجٹ خسارے کا باعث بنے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تقریباً 1.2 کروڑ امریکی اس قانون کے بعد صحت کی سہولتوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔ ڈیموکریٹس نے اس بل کو امیروں کے حق میں اور غریبوں کے خلاف قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے تنقید مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ بل عوام میں سب سے زیادہ مقبول ہے، چاہے وہ فوجی ہوں یا شہری‘‘۔ تاہم سروے پولز اس کے برعکس عوامی ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ قانون سازی صدر ٹرمپ کی سیاسی میراث کا حصہ بن سکتی ہے، لیکن اگر اس کے نتائج عوامی سطح پر محسوس نہ کیے جا سکے تو ریپبلکن جماعت کو آئندہ انتخابات میں بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔