سانحہ سوات: دریا کا رخ موڑنے سے حادثہ پیش آیا، تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف

 Swat River tragedy: Nine dead, four missing after 17 swept away by flash floods

سوات (آئی آر کے نیوز): سانحہ سوات کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ واقعے سے قبل دریا کے کنارے حفاظتی پشتوں کی مضبوطی کے باعث پانی کا رخ موڑا گیا، جو حادثے کا سبب بنا۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ سیاح 23 جون کو صبح 9 بج کر 31 منٹ پر دریائے سوات میں داخل ہوئے اور 14 منٹ بعد 9 بج کر 45 منٹ پر پانی کی سطح اچانک بلند ہوگئی۔ ریسکیو ٹیم جائے وقوعہ پر 10 بج کر 5 منٹ پر پہنچی۔

ریسکیو حکام کے مطابق اب تک 12 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں جبکہ ایک نوجوان کی تلاش ساتویں روز بھی جاری ہے۔ حادثے میں کل 17 افراد دریا میں بہہ گئے تھے، جن میں سے 4 کو زندہ بچا لیا گیا۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے انکوائری کمیٹی کو بتایا کہ 23 جون کو ضلعی انتظامیہ کو بارش اور ممکنہ سیلاب سے متعلق پیشگی الرٹ جاری کیا گیا تھا، جس میں 25 جون سے تیز بارشوں کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ پی ڈی ایم اے نے سوات، دیر، کوہستان اور شانگلہ کے ندی نالوں میں طغیانی کے خطرے سے خبردار کیا تھا اور مشینری کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت بھی دی تھی۔

ادارے کے مطابق 46 کروڑ روپے کے فنڈز ضلعی انتظامیہ کو جاری کیے گئے تھے اور امدادی سامان بھی فراہم کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اے نے تمام اقدامات بروقت مکمل کیے تھے، تاہم سانحہ سوات نے ضلعی سطح پر انتظامات کی افادیت پر سوال اٹھا دیے ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی