پشاور (آئی آر کے نیوز): خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو عوامی سطح پر تنقید کا سامنا، گیلپ پاکستان کے تازہ سروے میں شہریوں نے ترقیاتی فنڈز میں کرپشن، سفارشی کلچر، بے روزگاری اور احتجاجی سیاست پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق گیلپ کے رائے عامہ کے سروے میں 58 فیصد شہریوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن ہو رہی ہے، جب کہ 40 فیصد نے دعویٰ کیا کہ پنجاب کے مقابلے میں خیبرپختونخوا میں زیادہ بدعنوانی ہے۔
سروے میں شامل 73 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ سرکاری نوکریاں میرٹ پر نہیں ملتیں، جب کہ 59 فیصد نے بے روزگاری میں اضافے کی نشاندہی کی۔ اسی طرح 60 فیصد شہریوں کا خیال ہے کہ حکومت کام کے بجائے احتجاج میں وقت ضائع کر رہی ہے، اور 73 فیصد نے سفارشی کلچر پر تشویش ظاہر کی۔
رپورٹ کے مطابق 66 فیصد ووٹرز نے منتخب نمائندوں پر وعدہ خلافی کا الزام عائد کیا، تاہم 58 فیصد شہریوں نے امن و امان کی صورتحال پر اطمینان ظاہر کیا۔
سروے میں عوام کی اکثریت نے موجودہ علی امین گنڈاپور حکومت کے مقابلے میں سابق وزرائے اعلیٰ محمود خان اور پرویز خٹک کے ادوار میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بہتر قرار دیا۔
یہ سروے اپریل سے جون کے درمیان کیا گیا، جس میں خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سے 3 ہزار شہریوں سے انٹرویو کیے گئے۔
دوسری جانب، مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے گیلپ سروے کو مسترد کرتے ہوئے اسے وفاقی حکومت کا تیار کردہ "سیاسی اسکرپٹ" قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سروے مفروضوں پر مبنی ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر گیلپ غیر جانبدار ہے تو پنجاب کی خرابیاں اور سندھ کے مسائل بھی دکھائے، کراچی کی صفائی اور ڈاکوؤں کے خلاف رائے کیوں نہیں لی گئی؟ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی مقبولیت کو جعلی سروے سے قابو میں نہیں لایا جا سکتا۔
بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کا بیانیہ عوام کے ووٹ سے بنتا ہے، نہ کہ سروے رپورٹس سے۔