عدالت نے شہری ساجد نواز کو مقدمے سے بری کر دیا

 ساجد نواز کی وائرل ویڈیو کے بعد ’سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ویڈیو‘ بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی — فوٹو: اسکرین گریب/فیس بک

لاہور (آئی آر کے نیوز): سیشن کورٹ لاہور نے وزیراعلیٰ پنجاب اور آرمی چیف کے خلاف مبینہ نازیبا زبان استعمال کرنے پر درج مقدمے میں گرفتار شہری ساجد نواز کو مقدمے سے ڈسچارج کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق، تھانہ گرین ٹاؤن پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے ساجد نواز کو آج عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے فوری طور پر ہتھکڑیاں کھلوانے کا حکم دیتے ہوئے انہیں مقدمے سے بری کر دیا۔ فاضل جج غلام فرید نے کیس کی سماعت کے دوران پولیس سے کہا کہ اگر شہری کے خلاف کوئی قابلِ سماعت ثبوت موجود نہیں، تو اسے مزید حراست میں رکھنے کا جواز نہیں بنتا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ساجد نواز کے بیٹے عمر نے اپنے والد کی بازیابی کے لیے لاہور کی سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت نے پولیس کو آج ملزم کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کے والد کو بغیر کسی مقدمے کے دو روز سے غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے، اور انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا جا رہا۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا پر ساجد نواز کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں انہوں نے مبینہ طور پر وزیراعلیٰ پنجاب اور آرمی چیف کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی تھی۔ بعد ازاں پولیس کی جانب سے ان کی ایک معافی کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی۔

عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ اگر شہری پولیس تحویل میں ہے تو اُسے عدالت میں پیش کیا جائے۔ آج پیشی کے دوران عدالت نے شہری کو مقدمے سے خارج کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔

عدالتی فیصلے کے بعد ساجد نواز کو احاطہ عدالت سے رہا کر دیا گیا۔

جدید تر اس سے پرانی