لاہور (آئی آر کے نیوز): پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے 26 معطل ارکان کے خلاف ممکنہ نااہلی ریفرنس کا معاملہ جس شدت سے سامنے آیا، اسی تیزی سے سرد مہری میں تبدیل ہو کر مذاکراتی کمیٹی کے قیام تک پہنچ گیا۔ اب اس ساری صورتحال کی اندرونی کہانی بھی سامنے آگئی ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق، اسپیکر پنجاب اسمبلی اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر کچھ غیر سیاسی حلقے متحرک ہوئے اور انہوں نے فریقین کو معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی تجویز دی۔ ان حلقوں کی جانب سے تجویز دی گئی کہ معاملہ نااہلی کی حد تک لے جانے کے بجائے صرف معطلی تک محدود رکھا جائے تاکہ سیاسی ماحول مزید خراب نہ ہو۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر اور اپوزیشن چیمبرز کے درمیان ان حلقوں کے ذریعے رابطے کیے گئے اور دونوں جانب سے اس پر اتفاق کیا گیا کہ سیاسی درجہ حرارت کو کم کیا جائے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی، جو کہ حکومت کی اتحادی جماعت ہے، بھی نااہلی ریفرنس کے خلاف تھی اور اس نے پسِ پردہ ایسے کسی بھی اقدام کی مخالفت کی۔
غیر سیاسی ذرائع کے مطابق اسمبلیوں میں احتجاج سیاست کا حصہ ہوتا ہے، اس پر ارکانِ اسمبلی کی نااہلی تک بات لے جانا ایک خطرناک روایت بن سکتی ہے، جس سے پارلیمانی نظام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
واضح رہے کہ اپوزیشن کے 26 ارکان کو اسمبلی اجلاس کے دوران ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے الزام میں معطل کیا گیا تھا، جس کے بعد اسپیکر نے ان کے خلاف نااہلی کے لیے ریفرنس دائر کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ تاہم، اب معاملات میں نرمی آ چکی ہے اور فریقین نے مذاکراتی کمیٹی قائم کر کے افہام و تفہیم کی راہ اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔