سوات (آئی آر کے نیوز): سانحہ سوات سے متعلق جاری کی گئی انکوائری رپورٹ میں متعدد سرکاری اداروں کی مجرمانہ غفلت اور لاپروائی کا پردہ چاک ہوگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سانحے کے وقت ریسکیو 1122 کے سوات ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر بغیر اطلاع دیے چھٹی پر تھے، جب کہ پولیس دفعہ 144 پر مؤثر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سوات میں دفعہ 144 پر عمل درآمد کروانا پولیس کی ذمہ داری تھی، تاہم پولیس کی جانب سے ایف آئی آرز کے اندراج میں بھی سستی اور کمزوری کا مظاہرہ کیا گیا۔ رپورٹ میں سرکاری فرائض میں غفلت کے مرتکب اہلکاروں اور افسران کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق متعلقہ محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی شروع کریں۔ ان محکموں میں ضلعی انتظامیہ، محکمہ آبپاشی، بلدیات اور ریسکیو 1122 شامل ہیں۔
رپورٹ میں سابق ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 کے خلاف بھی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے، جب کہ سابق ڈپٹی کمشنر سوات اور سابق ایڈیشنل ڈی سی ریلیف کو بھی غفلت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 سوات، دو غوطہ خور، ٹاؤن میونسپل آفیسر ٹی ایم اے بابوزئی، محکمہ آبپاشی کے گیج ریڈر، انچارج ریسکیو کنٹرول روم سوات، ڈپٹی ڈائریکٹر نارتھ ایریگیشن اور محکمہ آبپاشی کے دو دیگر افسران کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے انکوائری رپورٹ کی روشنی میں کوتاہی کے مرتکب افراد کے خلاف تادیبی اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ غفلت کے ذمہ داروں کو ہر صورت جوابدہ بنایا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔