نئی دہلی (ویب ڈیسک): بھارتی فوج نے آپریشن سندور کے دوران مارے گئے فوجیوں کو اعزازات دینے کا فیصلہ کرلیا، جس سے بھارتی افواج کو ہونے والے بھاری جانی نقصان کا غیر علانیہ اعتراف سامنے آگیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارت کو آپریشن سندور میں لائن آف کنٹرول سمیت مختلف محاذوں پر شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا، تاہم بھارتی حکومت اور افواج اپنی ہزیمت چھپانے کے لیے ان نقصانات کو مسلسل دبائے رکھے ہوئے تھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب اندرونی دباؤ کے باعث ہلاک فوجیوں کو اعزازات دیے جا رہے ہیں، جس سے ان کی ہلاکتوں کا بالواسطہ اعتراف کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق صرف ایل او سی پر بھارتی فوج کے 250 سے زائد اہلکار مارے گئے، جن میں بھارتی فضائیہ کے 4 پائلٹس، بشمول 3 رافیل طیاروں کے پائلٹس، اور آدم پور ایئربیس پر تعینات جدید فضائی دفاعی نظام ایس-400 کے 5 آپریٹرز شامل ہیں۔
اسی طرح ادھم پور ایئربیس اور اس سے منسلک ایئر ڈیفنس یونٹ پر ہلاک ہونے والے 9 اہلکار، ایوی ایشن بیس راجوڑی میں 2 اور اڑی کے سپلائی ڈپو میں مارے جانے والے 4 اہلکار بھی اعزازات کی فہرست میں شامل ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ہلاک اہلکاروں کے اہلخانہ کو سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی تصاویر یا معلومات سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں، تاکہ ان نقصانات کو عوامی سطح پر چھپایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق بھارت کی جانب سے پہلے ان ہلاکتوں کو تسلیم نہ کرنا اور اب اعزازات دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ مودی حکومت اندرونی تنقید اور دباؤ کا شکار ہو چکی ہے۔ ماضی میں بھی پٹھان کوٹ اور ادھم پور بیس پر پاکستان کے مؤثر حملوں کے بعد بھارتی حکومت نے نقصانات کی تردید کی تھی۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بھارت کو لائن آف کنٹرول اور دیگر محاذوں پر پاکستان کے جوابی اقدامات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد وہ جنگ بندی پر مجبور ہوا۔