بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے پہلگام فالس فلیگ کے بعد بھارت میں حکومتی آشیرباد سے تیزی سے بڑھتی ہوئی مسلم دشمنی کا پردہ چاک کردیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی مسلم دشمنی
اور مودی سرکار کی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز پالیسیوں پر علمی میڈیا نے
بھی اپنی رپورٹس میں چشم کا انکشافات کیے ہیں۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق بی جے پی رہنماؤں کی ایما پر بھارت کے مختلف
حصوں میں مسلمانوں پر تشدد کی نئی لہر دیکھی جا رہی ہے۔ خاص طور پر اتر پردیش،
ہریانہ اور مہاراشٹرا میں مسلمانوں پر حملوں اور دھمکیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب عالمی میڈیا نے بھی اپنی رپورٹس میں انکشاف کیا ہے کہ مودی
حکومت کی مسلم دشمنی کی انتہا یہ ہے کہ بھارتی ڈیجیٹل میڈیا نے مسلمانوں کے خلاف
زہر اگلنا شروع کر دیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پہلگام حملے کے بعد بھارت میں 20 نفرت
انگیز اسلاموفوبک گانے ریلیز کیے گئے ہیں، جن میں مسلمانوں کے خلاف تعصب بھڑکایا
گیا۔
اسی طرح بی جے پی رہنما نیتیش رانے کی طرف سے مسلمانوں کے معاشی
بائیکاٹ کی اشتعال انگیز اپیل بھی کی گئی ہے جو کہ کشمیری مسلمانوں پر حملوں اور
بھارت بھر میں 21 سے زائد مسلم مخالف تشدد کے واقعات کے بعد سامنے آئی ہے۔ الجزیرہ
کے مطابق حملے کے بعد بھارت میں مسلمان مریضوں کا علاج روکنے اور طلبا پر تشدد کے
متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
واشنگٹن ڈی سی کے مرکز برائے مطالعۂ منظم نفرت کی رپورٹ میں کہا گیا
ہے کہ بھارت میں مسلم دشمنی میں شدید اضافہ ہو چکا ہے اور مودی حکومت مسلمانوں کے
خلاف نفرت بھڑکا کر سیاسی مقاصد حاصل کر رہی ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی ہندو مسلم فسادات کو ہوا دے کر خطے
میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ صورت حال بھارت میں مسلمانوں کی زندگی
کو مزید مشکل بنا رہی ہے جب کہ عالمی سطح پر مودی کی مسلم دشمن پالیسیوں کی مذمت
ہو رہی ہے۔