پاکستان پراب تک پہلگام حملہ کروانے کے کوئی ثبوت سامنے نہیں لائے جاسکے، امریکی آخبار نے بڑا دعویٰ کردیا

 

امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت اب تک پاکستان کے پہلگام حملے میں ملوث ہونے کے کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکا، ایسا لگتا ہے کہ بھارت پاکستان پر حملے کرنے کے لیے اپنا کیس بنا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے 100 غیر ملکی سفارت کاروں کو وزارت خارجہ بلاکر بریفنگ دی، پہلگام واقعے کے ذمہ داروں کی شناخت کے ڈیٹا سمیت تیکنیکی انٹیلی جنس کے بارے میں مختصر طور پر آگاہ کیا گیا۔

امریکی اخبار کے مطابق بریفنگ میں شریک سفارت کاروں اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بریفنگ میں بھارت واقعے سے متعلق کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق اس بریفنگ سے آگاہ 4 سفارت کاروں نے بتایا کہ نئی دہلی بظاہر اپنے ہمسایہ اور روایتی دشمن کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے کیس بنا رہا ہے، تاہم اس کے پاس ایسے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ پہلگام حملے میں پاکستان ملوث ہے۔

واضح رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے قریب سیاحتی وادی میں سیاحوں پر ہونے والے حملے کے فوری بعد بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کر دیا تھا، جس کے بعد نریندر مودی کی حکومت نے پاکستان سے تعلقات میں کمی کا اعلان کیا، حملے کی گیدڑ بھبکیاں دیں اور سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

پاکستان کی قومی سلامتی نے اپنے اجلاس میں بھارت کی اشتعال انگیزی پر غور کرنے کے بعد جوابی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے پانی روکنے کو جنگ کے مترادف قرار دیا تھا۔

دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیے تھے، اس وقت جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی قوتوں کے مابین صورتحال شدید کشیدہ ہے۔

  



جدید تر اس سے پرانی