امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران تلخ کلامی پر یوکرین کی فوجی امداد روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ایک
عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زیلنسکی سے ہونے
والی تلخ کلامی کے بعد روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کو دی جانے والی امریکی امداد
روک دی ہے۔ تاہم ابھی تک وائٹ ہاؤس یا پینٹاگون کی طرف سے اس کا باضابطہ اعلان
نہیں کیا گیا۔
وائٹ ہاؤس ذرائع کی جانب سے یہ رپورٹ کیا گیا کہ" صدر ٹرمپ امن
پر توجہ دے رہے ہیں، اور ہم اپنے شراکت داروں سے بھی یہی چاہتے ہیں۔ ہم امداد روک
کر جائزہ لے رہے ہیں کہ یہ (جنگ کے) کسی حل کے لیے کام آرہی ہے یا نہیں۔"
دوسری طرف دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ یوکرین امریکی امداد کے بغیر
روس کے خلاف صرف 2 سے 4 مہینوں تک جنگ جاری رکھ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ غیرملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں
کی ملاقات ایک تقریب سے قبل اوول آفس میں ہوئی جہاں زیلنسکی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو روسی
صدر ولادیمیر پیوٹن کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرنے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ اس
ملاقات سے قبل یہ امید ظاہر کی جارہی تھی کہ دونوں رہنما یوکرین کی معدنیات کی
صنعت میں امریکی شرکت کے معاہدے پر دستخط کریں گے مگر ایسا نہ ہوسکا۔ وائٹ ہاؤس کے
عہدیدار نے بتایا کہ اوول آفس کے متنازع اجلاس کے بعد یوکرین کے صدر وہاں سے جلد
روانہ ہوگئے۔
' ٹروتھ سوشل " پر ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر
امریکا جنگ بندی کروانے میں شامل ہو رہا ہے، تو ایسے میں زیلنسکی امن کے لیے تیار
نہیں ہیں، زیلنسکی سمجھتے ہیں کہ امریکا کی شمولیت سے ہم فائدہ اٹھائیں گے ، لیکن
میں فائدہ نہیں چاہتا، امن چاہتا ہوں۔ انہوں نے اوول آفس میں ریاست ہائے متحدہ
امریکا کی توہین کی، ٹرمپ نے تلخ تصادم کے بعد لکھا کہ وہ اس وقت واپس آسکتے ہیں
جب وہ امن کے لیے تیار ہوں۔
ہڈسن انسٹیٹیوٹ اور ڈی سی میں یوکرین ہاؤس میں زیلنسکی کی مجوزہ پیشی
بھی بعد میں منسوخ کردی گئی۔
قبل ازیں اوول آفس میں ہونے والی بات چیت کے دوران زیلنسکی نے ٹرمپ کے
اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا کہ جنگ کی وجہ سے یوکرین کے شہر ملبے میں تبدیل ہو
گئے ہیں، ٹرمپ نے ایک موقع پر زیلنسکی سے کہا تھا کہ ’آپ تیسری جنگ عظیم کا جوا
کھیل رہے ہیں۔‘
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ اوول آفس میں آکر خود کو بڑا
بناکر پیش کرنا امریکا کی توہین ہے، جس سے ٹرمپ نے اتفاق کیا، لوگ مر رہے ہیں،
ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا کہ آپ فوجیوں کی تعداد کم کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے زیلنسکی سے ملاقات میں ان پر بار بار زور دیا کہ وہ امن
معاہدہ کرلیں،ورنہ امریکا اس معاملے سے نکل جائے گا۔
اس ملاقات کے بعد یہ امید ظاہر کی جارہی تھی کہ دونوں رہنما بعد میں
ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے، جہاں انہیں ایک معاہدے پر دستخط کرنے
تھے، لیکن یوکرین صدر وہاں سے جلدی روانہ ہوگئے۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں طے پانے والے معاہدے سے یوکرین کی وسیع
معدنی دولت امریکا کے لیے کھل جائے گی، لیکن اس میں یوکرین کے لیے واضح امریکی
سیکیورٹی کی گارنٹی شامل نہیں ہے، ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کاروبار میں امریکیوں کی
موجودگی ضمانت کی ایک شکل کے طور پر کام کرے گی۔
زیلنسکی نےاس کے جواب میں کہا کہ وہ کسی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں
کریں گے جس سے ان کا ملک نسلوں تک مقروض رہے۔
روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ
نے وائٹ ہاؤس میں نعرے بازی کے دوران زیلنسکی کو نہ مار کر ’تحمل‘ کا مظاہرہ کیا،
انہوں نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ ’ٹرمپ اور وینس جس طرح اس اسکومبگ کو نشانہ بنانے
سے باز رہے، یہ تحمل کا معجزہ ہے۔‘
دوسری جانب جب ٹرمپ نے مذاکرات کے دوران یورپی سلامتی کے حوالے سے بہت
کم پرعزم موقف اپنایا تو لہجے میں تبدیلی نے پورے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا۔
جرمنی کی وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے کہا کہ جرمنی اپنے یورپی
اتحادیوں کے ساتھ مل کر یوکرین کے شانہ بشانہ اور روسی جارحیت کے خلاف متحد ہے۔