دنیا کا وقت ختم ہوچکا، اہم مذاکرات شروع


قدرتی ماحول کے تحفظ کے لیے عالمی مذاکرات دوبارہ شروع ہوگئے ہیں جس میں پوری دنیا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ’کرہ ارض پر زندگی کو برقرار رکھنے‘ کے لیے متحد ہو جائیں اور فنڈنگ کی لڑائی پر قابو پائیں جس کی وجہ سے گزشتہ سال ہونے والا ایک عالمی سطح کا اجلاس انتشار کا شکار ہوگیا تھا۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2030 تک اس دنیا کی 30 فیصد زمین اور سمندروں کے تحفظ کے وعدے سمیت فطرت سے متعلق تاریخی معاہدے کے 2 سال بعد بھی ممالک تباہی کو روکنے کے لیے درکار رقم پر تگ و دو سے دوچار ہیں، جس کے بارے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سے لاکھوں انسانوں کو خطرہ لاحق ہے۔

رواں ہفتے روم میں اسی حوالے سے اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (یو این ایف اے او) کے صدر دفتر میں ہونے مذاکرات ہوئے جس میں امیر اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان اس تعطل کو حل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ آیا فطرت کے تحفظ کے لیے ایک مخصوص فنڈ تشکیل دیا جائے یا نہیں؟۔

یاد رہے کی فنڈنگ کے معاملات کوحل کرنے کیلئے نومبر میں کولمبیا کے شہر کیلی میں اقوام متحدہ کے کوپ 16 مذاکرات کئی گھنٹوں تک جاری دہنے کے بعد بغیر کسی سمجھوتے کے ختم ہو گئے تھے۔

روم میں مذاکرات کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بہت سے ترقی پذیر ممالک نے اجلاس پر زور دیا کہ وہ فنڈز جاری کریں اس کے ساتھ ساتھ امیر ممالک 2025 تک غریب ممالک کو سالانہ 20 ارب ڈالر فراہم کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کریں۔

پاناما کے نمائندے کی جانب سے کہا گیا کہ بین الاقوامی برادری اس بات کو یقینی بنائے کہ 2030 کے بعد مجموعی طور پر مالی اعانت حیاتیاتی تنوع کے بحران کی فوری ضرورت کو سمجھا جائے اور اسی مطابق معاہدوں کو ترتیب دیا جائے۔

اجلاس میں اس چیز پر بھی زور دیا گیا کہ  ماحولیاتی نظام، معیشت اور انسانیت کی بقا کا معاملہ ہے لہزا اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جائے اور جامع پالیسیاں تشکیل دی جائیں تاکہ ماحولیات پر قابو پایا جاسکے۔

یاد رہے کہ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مختلف ممالک کو تجارتی تناؤ اور قرضوں کے خدشات سے لے کر یوکرین میں جنگ تک متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔

اگرچہ واشنگٹن نے حیاتیاتی تنوع سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن پر دستخط نہیں کیے، لیکن نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو اسی ایڈ) کے ذریعے ترقیاتی فنڈنگ روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 


جدید تر اس سے پرانی