اقوام متحدہ سے بڑی خبر، یورپی یونین کی امریکا کو شکست



اقوام متحدہ میں یو کرین کے معاملے پر یورپی یونین نے امریکا کو شکست سے دو چار کردیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین پر روس کے حملے کے 3 سال مکمل ہونے کے موقع پر تیار کی گئی قرارداد پر اقوام متحدہ کی ووٹنگ میں امریکا نے حصہ نہیں لیا تھا۔   اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جنرل اسمبلی نے واشنگٹن کی تیار کردہ قرارداد کے متن میں کیف کی حمایت کرنے والے الفاظ شامل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

ڈان اخبارکی رپورٹ میں یہ بتایا گیا کہ یہ یورپی ممالک کیلئے بہت بڑی فتح جبکہ امریکہ کیلئے بہت بڑی ہار سمجھی جارہی ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ  یہ ووٹنگ ان یورپی ممالک کی فتح تھی، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں روس کے ساتھ امریکی پیش کش پر فکرمند تھے۔

خیال رہے کہ اصل امریکی مسودہ محض 3 پیراگراف پر مشتمل تھا جس میں امریکہ نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا تھا، امریکہ نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ اس تنازع کو اب حل کیا جائے۔

لیکن یورپی ترامیم میں روس کی جانب سے یوکرین پر مکمل حملے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کی ضرورت کا حوالہ دیا گیا، اور یوکرین کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے اقوام متحدہ کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔

متعدد قراردادوں میں روس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ یوکرین سے اپنی افواج واپس بلا لے۔ اس پر قائم مقام امریکی سفیر ڈوروتھی شیا نے ووٹنگ سے قبل کہا کہ یہ قراردادیں جنگ کو روکنے میں ناکام رہی ہیں، جب تک ہم کوئی جامع حکمت عملی ترتیب نہیں دیتے تب تک اس معاملے کا کوئی حل نہیں نکلے گا۔

یاد رہے کہ امریکا کی جانب سے تیار کردہ ترمیم شدہ قرارداد کے حق میں 93 ووٹ پڑے جبکہ 73 ریاستوں نے ووٹ نگ میں حصہ نہیں لیا۔

امریکا قرارداد کا اپنا متن پیش کرتے ہوئے یوکرین اور یورپی اتحادیوں کے خلاف کھڑا ہوگیا، جنہوں نے گزشتہ ایک ماہ تک اپنی قرارداد پر مذاکرات کیے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یوکرین اور یورپی ممالک کی جانب سے تیار کردہ قرارداد کے حق میں 93 ووٹ ڈالے، جب کہ 65 ووٹ مسترد ہوئے جبکہ 18 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

 

جدید تر اس سے پرانی