لاہور (آئی آر کے نیوز): لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو جیل میں دل کی ادویات فراہم کرنے کی ہدایت کردی، جبکہ ڈپٹی کمشنر لاہور، سی سی پی او اور دیگر افسران کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنے کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جسٹس عبہر گل نے ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزاروں کے وکیل رانا مدثر عمر نے استدعا کی کہ ایس پی، سی سی پی او لاہور اور ڈپٹی کمشنر کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا جائے تاکہ وہ نظر بندی کے نوٹیفکیشن کی وضاحت کرسکیں۔ وکیل رانا مدثر عمر نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار جیل میں کوئی غیرمعمولی سہولت فراہم کرنے کی استدعا نہیں کر رہے بلکہ بنیادی ضروریات کی فراہمی چاہتے ہیں۔ انہوں نے نورین نیازی کو کپڑے، ادویات اور نظر کی عینک فراہم کرنے کے ساتھ اہل خانہ اور وکیل سے ملاقات کی اجازت دینے کی بھی استدعا کی۔
