عدلیہ آزاد ہوتی تو عمران خان جیل میں نہ ہوتے، علیمہ خان

 

اسلام آباد (آئی آر کے نیوز): سابق وزیر اعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کے ان کو آرڈر ہونا ہے کہ مجھے سزا ہونی ہے، میرے خلاف سزا لکھی گئی ہے اس کیس میں نہیں تو کسی اور کیس میں دے دیں گے،عدلیہ آزاد ہوتی تو بانی پی ٹی آئی جیل میں نہ ہوتے۔

انسداد دہشت گردی عدالت باہر میڈیا ٹاک کرتے علیمہ خان کا کہنا تھا کے جھوٹے مقدمات سے نہیں ڈرتے ۔کل اڈیالہ جیل عمران خان سے فیملی ملاقات ڈے ہے ۔کل ہم ایک بجے اڈیالہ جیل باہر پہنچیں گے۔ڈیڑھ بجے اڈیالہ جیل باہر شہدا اور غیر قانونی گرفتاری بابت سورہ یاسین ختم ہوگا۔

ہمیں کل بھی ملاقات اجازت نا دی گئی تو روڈ پر ہم بہنیں بیٹھ کر انتظار کریں گے، بانی پی ٹی آئی نے 26نومبر کی کال 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دی تھی اس ترمیم کے تحت 17سیٹوں والی جماعت کو اقتدار میں بٹھایا گیا۔

بانی نے قانون کی حکمرانی،عدلیہ کی آزادی کے لئے 26نومبر احتجاج کی کال دی تھی26ویں ترمیم کے ذریعے عوام کا حق حکمرانی ختم کر دیا گیا 26ویں ترمیم کے بعد مرضی کے ججز لگا کر سزائیں دیں گئیں۔

26نومبر کے مقدمہ میں مجھ پر الزام ہے کہ میں نے بانی کا پیغام عوام تک پہنچایا یہ ڈرے ہوئے لوگ ہیں انھوں نے عوام کا ووٹ چوری کیا آج آپ دیکھ لیں عدلیہ اور قانون کا کیا حال ہے میرے خلاف کیس لگنا کی نہیں چاہیئے تھا۔

ٹی وی پر بیٹھ کر حکومت والے کہہ رہے ہیں کہ مجھے ایک ماہ میں سزا ملی ہے جج صاحب حکومتی عہدے داروں کے خلاف توہین عدالت بھی نہیں لگا سکتے،ان کو کیسے پتہ ہے کہ مجھے سزا ہونی ہے انکو آرڈر ہونا ہے کہ مجھے سزا ہونی ہے میرے خلاف سزا لکھی گئی ہے اس کیس میں نہیں کسی اور کیس میں دے دیں گے۔

جدید تر اس سے پرانی