
غزہ پٹی کے رہائشیوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے امن منصوبے پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’تماشہ‘ قرار دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی غزہ کے علاقے المواسی میں 39 سالہ ابراہیم جودہ نے اپنے شیلٹر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ یہ منصوبہ غیر حقیقی ہے۔
اسرائیلی بمباری سے تباہ ہرنے والے رفح شہر کے رہائشی، کمپیوٹر پروگرامر ابراہیم جودہ نے کہا کہ یہ ایسی شرائط کے ساتھ تیار کیا گیا منصوبہ ہے، جنہیں امریکا اور اسرائیل جانتے ہیں کہ حماس کبھی قبول نہیں کرے گا، ہمارے لیے اس کا مطلب ہے کہ جنگ اور تکالیف جاری رہیں گی۔
وہ اس وقت بات کر رہے تھے، جب صدر ٹرمپ نے اپنا 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا، جس کا مقصد تنازع کو ختم کرنا ہے، اور جس کے لیے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے بعد اپنی حمایت کا اظہار کیا۔
منصوبے میں کہا گیا ہے کہ حماس اور دیگر دھڑے کسی بھی شکل میں، براہِ راست یا بالواسطہ، غزہ کی حکمرانی میں کوئی کردار ادا نہیں کریں گے۔
شہری ابو مازن نصر بھی اتنے ہی مایوس تھے، اور ان کا خدشہ تھا کہ اس منصوبے کا مقصد فلسطینی دھڑوں کو دھوکا دے کر غزہ میں موجود اسرائیلی قیدیوں کو رہا کروانا ہے، جب کہ بدلے میں امن نہیں ملے گا۔
دیر البلاح میں بے گھر ہونے والے ابو مازن نصر نے کہا کہ یہ سب دھوکا دہی ہے، اس کا کیا مطلب ہے کہ تمام قیدیوں کو بغیر کسی سرکاری ضمانت کے حوالے کر دیا جائے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا جنگ ختم ہو گی؟
انہوں نے کہا کہ ہم بطور قوم اس تماشے کو قبول نہیں کریں گے، اب چاہے حماس اس معاہدے کے بارے میں کچھ بھی فیصلہ کرے، بہت دیر ہو چکی ہے۔
حماس نے ہمیں کھو دیا ہے اور ہمیں اس طوفان میں ڈبو دیا ہے جو اس نے خود بنایا تھا۔