وفاقی حکومت نے عوام پر ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ پیٹرولیم لیوی کا بوجھ منتقل کر دیا

 petrol prices January

اسلام آباد (آئی آر کے نیوز): صدر مملکت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی آرڈیننس جاری کرتے ہی عوام پر بڑا بوجھ لاد دیا گیا، وفاقی حکومت نےشہریوں پر ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ پیٹرولیم لیوی کا بوجھ منتقل کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، جس کا اطلاق آج سے ہوگا، حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر 70 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی وصول کر رہی تھی، تاہم نوٹیفکیشن کے بعد پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی 78 روپے 2 پیسے فی لیٹر کر دی گئی، ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی 77 روپے ایک پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی میں 8 روپے 2 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا، ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی 7 روپے ایک پیسے فی لیٹر بڑھادی گئی، وفاقی حکومت نےپیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 70 روپے سے زیادہ لیوی لگانےکے لیے قانون تبدیل کر دیا۔

صرف ایک ماہ کے دوران پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی میں 18 روپے 2 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا، ایک ماہ میں ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی 17 روپے ایک پیسے فی لیٹر بڑھائی گئی، اس سے پہلے وفاقی حکومت کے پاس پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 70 روپے تک فی لیٹر لیوی لگانے کا اختیار تھا۔

مٹی کے تیل، لائٹ ڈیزل آئل اور ہائی آکٹین بلینڈنگ کمپوننٹ (ایچ او بی سی) پر بھی پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا گیا ہے، مٹی کے تیل پر پٹرولیم لیوی 7 روپے 99 پیسے فی لیٹر بڑھائی گئی ہے، مٹی کے تیل پر پیٹرولیم لیوی18 روپے95 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، لائٹ ڈیزل آئل پر پیٹرولیم لیوی میں7 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، لائٹ ڈیزل آئل پر پیٹرولیم لیوی 15 روپے37 پیسے فی لیٹر کردی گئی ہے۔

ایچ او بی سی پر پیٹرولیم لیوی 8 روپے 2 پیسے فی لیٹر بڑھا دی گئی، جس کے بعد ایچ او بی سی پر پٹرولیم لیوی 78 روپے 2 پیسے فی لیٹر کردی گئی۔

 دوسری جانب، وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات (پیٹرولیم لیوی) آرڈیننس 1961 میں ترمیم کرکے اہم پٹرولیم مصنوعات، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر مزید لیوی عائد کردی۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے ہی پیٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) اور ہائی آکٹین بلینڈنگ کمپوننٹ (ایچ او بی سی) پر زیادہ سے زیادہ قابل اجازت پیٹرولیم لیوی 70 روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ قیمتوں کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے لیے ایک نئے قانون کی ضرورت تھی۔

حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی نہیں ہونے دی جائے گی، جس سے طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے، کاربن کے اخراج کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے، اور زرمبادلہ کی قیمت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمتوں میں بالترتیب 6 ڈالر اور 5 ڈالر فی بیرل کی کمی ہوئی ہے۔

 

جدید تر اس سے پرانی