امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو آخری وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تمام یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کو رہا کرے ورنہ حماس کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تفصیلات کے مطابق برطانوی خبر رساں ادارے نے
رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک طویل پوسٹ کی
ہے جس میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ "میں
اسرائیل کو ہر وہ چیز فراہم کر رہا ہوں جو اسے اس کام کو مکمل کرنے کی ضرورت ہے،
اگر آپ نے میرے کہنے کے مطابق عمل نہ کیا تو حماس کا کوئی رکن محفوظ نہیں رہے گا۔"
یاد رہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان عین اس وقت سامنے
آیا جب وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ امریکہ اسرائیلی یرغمالیوں
کی رہائی کے لیے حماس کے ساتھ براہ راست بات چیت کر رہا ہے۔
یاد
رہے کہ اس سے پہلے تک امریکا نے حماس جیسے دہشت گرد گروپوں کے ساتھ براہ راست
رابطے سے گریز کیا تھا۔ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ اگر یرغمالی جلد از جلد آزاد
نہ کیے گئے تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے، اور ساتھ ہی حماس کے رہنماؤں کو غزہ
چھوڑنے کی دھمکی دی۔
امریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے
شہریوں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ حماس پر دباؤ بڑھائیں کہ وہ یرغمالیوں کو رہا
کرکے امن معاہدہ کرلیں ورنہ غزہ کا کوئی مستقبل نہیں ہوگا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ پہلی بار
نہیں ہے کہ ٹرمپ نے حماس کو ایسی دھمکیاں دی ہیں، اس سے پہلے دسمبر میں بھی انہوں
نے یہی کہا تھا کہ اگر یرغمالی آزاد نہ ہوئے تو ان کے لیے دنیا کا خاتمہ ہوگا۔
ادھر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن
لیوِٹ نے تصدیق کی کہ امریکا نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس کے ساتھ دو
براہ راست ملاقاتیں کی ہیں، جن کی قیادت امریکی خصوصی ایلچی ایڈم بوہلر نے کی۔
اسرائیل کے حکام نے ان مذاکرات سے آگاہ کیا تھا۔
واضح رہے کہ اس وقت اسرائیل کے مطابق حماس کی
حراست میں 59 افراد یرغمال ہیں، جن میں سے 24 زندہ ہیں اور ان میں 5 امریکی شہری
بھی شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں
امریکی حکام اور حماس کے درمیان ملاقاتیں ہوئی ہیں، جہاں سابق امریکی حکام کے
مطابق امریکہ کو اپنے شہریوں کی رہائی کے لیے زیادہ فعال ہونے کی ضرورت ہے۔