اسلام آباد (آئی آر کے نیوز): انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے 26 نومبر احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ اور دیگر الزامات سے متعلق کیسز میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے 50 سے زائد کارکنوں کی ضمانت منظور کرلی۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 5،5 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض پی ٹی آئی کے کارکنوں کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرتے ہوئے 52 ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار ملزمان ایف آئی آر میں نامزد نہیں۔ درخواست گزار ملزمان کو تفتیش مکمل ہونے کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا۔ بادی النظر میں ملزمان کے خلاف مزید انکوائری کا کیس ہے۔
فیصلے کے مطابق ملزمان پر الزام کا تعین صرف شواہد ریکارڈ کرنے کے بعد کیا جا سکتا ہے۔ ملزمان کے وکیل کے مطابق ملزمان کا مقدمے کے ساتھ تعلق نہیں جوڑا جاسکا۔ پراسیکوٹر نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ملزمان گھناؤنے جرم میں ملوث ہیں۔ پراسیکوٹر کے مطابق ملزمان کو شناخت پریڈ میں گواہوں نے شناخت کیا۔
پراسیکوشن عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی کہ ملزمان ضمانت کی شرائط پر عمل نہیں کریں گے۔ اس کا امکان نہیں کہ ملزمان انصاف کے نظام میں خلل ڈالنے کی کوشش کرے گے۔ اعلی عدالتیں طے کر چکی ہیں کہ ضمانت سزا کے طور پر مسترد نہیں ہو سکتی۔ عدالت نے تمام 52 ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
یہاں یہ بھی خیال رہے کہ پی ٹی آئی ورکرز کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔
جبکہ گزشتہ روز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کارکنان کیخلاف 26 نومبر کو احتجاج کے مقدمات میں 22 ملزمان کی ضمانتوں کی درخواستیں مسترد کردیں۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمات میں 22 کارکنان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔
جج نے تمام 22 ملزمان کی ضمانتوں کی درخواستیں خارج کر دیں، جوڈیشل مجسٹریٹ شہزاد گوندل نے دلائل مکمل ہونے پر کل فیصلہ محفوظ کیا تھا۔