راولپنڈی (آئی آر کے نیوز): سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکیل فیصل چوہدری سے اہم ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے بعد فیصل چوہدری نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات چیت کی۔
وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ عمران خان نے رمضان المبارک کے بعد بھرپور انداز میں تحریک چلانے کی ہدایت کی ہے اور اس حوالے سے اسد قیصر اور عمر ایوب کو ٹاسک بھی دیدیا گیا ہے، عمران خان ںے اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لینے کی ہدایت بھی کردی ہے۔
فیصل چوہدری نے میڈیا کو بتایا کہ عمران خان نے اوپن خطوط سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ حقائق ہیں جن پر اسٹیبلشمنٹ کو غور کرنا چاہیے۔
فیصل چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل میں کنٹرولڈ ٹرائل چلایا جارہا ہے۔ وکلاء اور صحافیوں میں پک اینڈ چوز کرکے اندر بھیجا جاتا ہے ہم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اوپن ٹرائل کی درخواست دائر کی ہے، بانی عمران خان نے اپنے تینوں خطوط کا اعادہ کیا اور کہا کہ یہ اوپن خطوط ہیں اور سب کیلئے ہیں۔
فیصل چوہدری کے مطابق عمران خان نے کہا کہ ملک میں انٹرنیٹ بند ہے کون یہاں سرمایہ کاری کرے گا، پی ٹی آئی حکومت کے بعد ملک کو 45 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے، فارم 47 کے کندھوں پر چڑھ کر یہ حکومت قائم کی گئی ہے، پاکستان میں پی ٹی آئی کے خلاف چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا، انسانی حقوق پامالی کیس کو دنیا کے سامنے لانے کی وجہ رول آف لاء کی نفی ہے، ہم بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں آج آزاد میڈیا اور آزاد عدلیہ ریورس ہوچکے ہیں۔