علیمہ خان کی اہم پریس کانفرنس

 



علیمہ خان پریس ٹاک

آج ہم سلمان صفدر صاحب کے ساتھ بیٹھے تھے تاکہ تفصیل سے سن سکیں کہ ان کی عمران خان سے جو ملاقات ہوئی، اس میں کیا بات ہوئی۔ اس ملاقات میں سہیل آفریدی صاحب تھے، سلمان اکرم راجہ صاحب تھے اور میں بھی موجود تھی۔ ہم نے سلمان صفدر صاحب سے عمران خان کی موجودہ حالت اور صحت کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔

آج میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ میرا دل ٹوٹ گیا۔ مجھے یہ احساس ہوا کہ ہم اس شخص کے لیے، جو ڈھائی سال سے جیل میں ہے، وہ سب کچھ نہیں کر سکے جو ہمیں کرنا چاہیے تھا۔ ہم نے ان کے لیے کافی نہیں کیا۔ سب نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے۔

ان کی آنکھ کے بارے میں جو میں سن کر آئی ہوں، وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ عبدالغفور انجم — یہ نام یاد رکھیں — تین ماہ سے عمران خان کہتے رہے کہ مجھے ایک آنکھ سے نظر نہیں آ رہا۔ لیکن تین ماہ تک نہ ان کا علاج کروایا گیا، نہ ڈاکٹر بلایا گیا۔ دو ہفتے تک تو ان کی بینائی تقریباً ختم رہی اور اس کے باوجود ڈاکٹر نہیں بلایا گیا۔ یہ کیسا انسان ہے؟

اگر کوئی یہ کہے کہ صرف عبدالغفور انجم ذمہ دار ہے، تو عمران خان نے خود کہا ہے کہ اس کے خلاف مجرمانہ غفلت (کرمنل نیگلیجنس) کا مقدمہ درج کیا جائے۔ لیکن معاملہ صرف ایک فرد کا نہیں، یہ پورے نظام کا مسئلہ ہے۔ 

تین ماہ تک حقیقت چھپائی گئی۔ انتظار کیا گیا کہ ان کی نظر مزید خراب ہو جائے۔ کیا اسی لیے عمران خان کو جیل میں رکھا گیا ہے؟ اور ہم باہر بیٹھے کیا کر رہے تھے؟ اگر ان لوگوں میں اتنی جرات ہے کہ وہ عمران خان کی بینائی تک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، تو یہ بہت سنگین بات ہے۔آج عمران خان جیل میں ہیں کیونکہ ہماری عدلیہ آزاد نہیں۔ اگر عدلیہ آزاد ہوتی اور انہیں انصاف مل رہا ہوتا تو وہ جیل میں نہ ہوتے۔ اور اگر جیل میں بھی ہوتے تو ان کے مقدمات کا بروقت فیصلہ ہوتا۔

القادر کیس کو ایک سال پہلے ہائی کورٹ میں لے جایا گیا، مگر اس وقت تک سماعت نہ ہوئی جب تک جج ڈوگر کی تعیناتی نہ ہو گئی۔ ان کے سامنے کیس آیا تو عدالت ہی بند کر دی گئی۔ انصاف دینے سے انکار کیا گیا۔ کیس لگنے ہی نہیں دیا جا رہا کیونکہ جس دن کیس لگ گیا، تاریخ گواہ ہوگی کہ انصاف نہیں دیا گیا۔

القادر کیس میں اس وقت عمران خان قید میں ہیں اور بشریٰ بی بی بھی اسی مقدمے کا سامنا کر رہی ہیں

عمران خان نے دوبارہ پیغام بھیجا ہے کہ میں جیل میں مر جاؤں گا لیکن اس فرعونیت کے آگے سر نہیں جھکاؤں گا۔ اب اس کے بارے میں آپ نے کیا کرنا ہے؟ وہ آپ لوگوں کے لیے کھڑے ہیں۔ تیس سال انہوں نے یہ جماعت بنائی جسے تحریکِ انصاف کہتے ہیں۔ تیس سال عمران خان نے انصاف کے لیے جنگ لڑی ہے، ججوں کے لیے جنگ لڑی ہے، عدلیہ کے لیے جنگ لڑی ہے۔ اور آج یہی عدلیہ اور قانون بنانے والے انہیں اندر جانے نہیں دے رہے۔

یہ سرکاری ملازم کون ہوتے ہیں؟ حکومت ہمارے ٹیکس پر چلتی ہے۔ جج ڈوگر کون ہوتے ہیں کہ عدالت بند کر دیں؟ ہم آج چیف جسٹس سپریم کورٹ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے انسانیت دکھائی۔ انہیں معلوم تھا، میرے خیال میں سب گھبرائے ہوئے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ عمران خان کی آنکھ متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے خود بتایا کہ اس وقت میری بینائی 10 سے 15 فیصد رہ گئی ہے۔ آپ ان کی آنکھ کو کیا نقصان پہنچائیں گے؟ ان کے بال کا بھی نقصان نہ ہو۔

پھر یہ نہ کہنا کہ یہاں سچ اور مفاہمت (Truth and Reconciliation) ہوگی۔ یہ نہ سوچنا کہ اس کے بعد ہم کہیں گے کہ کوئی بات نہیں، معاف کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد معافی نہیں ہوگی۔ کون کون یہاں سے بچ کر نکلے گا؟

آپ عمران خان کو انصاف دیں۔ ہم آپ سے کوئی اپیل نہیں کر رہے۔ اور یہ جو سوشل میڈیا پر ڈراما لگایا ہوا ہے، اسے بند کریں۔ جو یہ حکومتی لوگ توجہ ہٹانے کے لیے باتیں پھیلا رہے ہیں کہ عمران خان کی کوئی ڈیل ہو رہی ہے یا انہیں بنی گالا ہاؤس اریسٹ منتقل کیا جا رہا ہے—یہ سب غلط ہے۔

عمران خان نے واضح کہا ہے: میں جیل میں مر جاؤں گا لیکن اس فرعونیت کے آگے سر نہیں جھکاؤں گا۔

اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ جیل مینول میں کیا لکھا ہے؟ ہمیں سب معلوم ہے۔ جیل مینول کے مطابق جب کسی قیدی کی بینائی متاثر ہو جائے تو متعلقہ افسر کا فرض بنتا ہے کہ فوری طور پر اطلاع دے اور طبی امداد فراہم کرے۔ عمران خان روز کہتے رہے کہ مجھے نظر نہیں آ رہا۔ اس افسر کا فرض تھا کہ ہمیں اطلاع دیتا۔ لیکن اس نے نہ ڈاکٹر کو بلایا اور نہ ہی خاندان کو اطلاع دی۔

جب تک بینائی تقریباً ختم نہیں ہو گئی، تب جا کر ڈاکٹر کو بلایا گیا۔ دو ہفتے تک عمران خان تقریباً دیکھ نہیں سکتے تھے، پھر پمز (PIMS) کا ڈاکٹر بلایا گیا۔

لہٰذا یہ نہ کہا جائے کہ کوئی مجبور تھا۔ میں یہ لفظ سن سن کر تنگ آ چکی ہوں کہ “مجبور تھے”۔ کوئی مجبور نہیں ہوتا۔ جب آپ اس ملک کی خدمت کے لیے آتے ہیں اور تنخواہ لیتے ہیں تو آپ ذمہ دار ہوتے ہیں۔ یہ کہنا کہ اوپر سے حکم آیا تھا، اس لیے کیا — یہ عذر قابلِ قبول نہیں۔ جیل کی ذمہ داری اسی افسر پر تھی۔ عمران خان انہیں مسلسل کہتے رہے کہ میری آنکھوں کی بینائی جا رہی ہے، لیکن اس شخص نے نہ ڈاکٹر بلایا اور نہ خاندان کو اطلاع دی۔یہ مجرمانہ غفلت ہے، اور اس کا حساب ہونا چاہیے۔

پورے پاکستان میں نام یاد رکھ لیں۔ یہ پہلا مجرم ہے۔ اس کے پیچھے چاہے جتنے بھی مجرم ہوں، لیکن جیل انتظامیہ اور اس کا سپرنٹنڈنٹ ذمہ دار تھا۔ یہ اسی کی ذمہ داری تھی۔

پاکستان میں یہ کیسا نظام بنا دیا گیا ہے کہ سب کہتے ہیں ہم مجبور ہیں۔ جج بھی مجبور ہے، پولیس بھی مجبور ہے۔ یہ کیا مذاق ہے؟ کیا آپ یہ نوکریاں بھی مجبوری میں کرتے ہیں؟ آپ ملک کی خدمت کے لیے آتے ہیں، ان لوگوں کی ذمہ داری لینے کے لیے آتے ہیں جن کی نگرانی آپ کے سپرد ہوتی ہے۔

عبدالغفور انجم کا نام یاد رکھیں۔ یہ پہلا مجرم ہے، جو بظاہر ذمہ دار ہے۔ چاہے اسے قربانی کا بکرا بنا کر ہٹا دیا جائے، مگر ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔

جدید تر اس سے پرانی