پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس؛ صدر مملکت کے اعتراضات اور اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود بلز منظور



 اسلام آباد (آئی آر کے نیوز): پارلیمنٹ کے مشرکہ اجلاس میں اپوزیشن کے شدید احتجاج اور صدر مملکت کی جانب سے اعتراضات کے باوجود بلز منظور کرلیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں مقررہ وقت سے 35 منٹ تاخیر سے شروع ہوا، جس میں قانون سازی کے متعدد اہم نکات زیر بحث آئے ۔ اس موقع پر ایوان میں اپوزیشن کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔

مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت کی جانب سے دانش اسکولز اتھارٹی بل اور گھریلو تشدد سے متعلق بل پر اعتراضات سامنے آئے، جن میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت دانش اسکولز اتھارٹی بنانے سے قبل صوبوں کے ساتھ مشاورت کرے۔ اسی طرح گھریلو تشدد سے متعلق بل کو مبہم قرار دیتے ہوئے تجویز کردہ سزاؤں پر بھی اعتراض کیا گیا اور کہا کہ گھریلو تشدد سے متعلق بل کو موجودہ شکل میں منظوری دینے کے بجائے اس پر دوبارہ غور کیا جائے۔

قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل منظور


مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل پیش کیا گیا، جو وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان میں پیش کیا۔ پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے بل میں ترمیم پیش کی، جس کی حکومت نے حمایت کی۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق بل پر جے یو آئی کی جانب سے پیش کی گئی ترامیم مسترد کر دی گئیں، جو سینیٹر کامران مرتضیٰ اور عالیہ کامران نے پیش کی تھیں۔ بعد ازاں پارلیمنٹ نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی۔


دانش اسکولز اتھارٹی بل کی منظوری


دانش اسکولز اتھارٹی بل 2025 بھی مشترکہ اجلاس میں پیش کیا گیا۔ جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے دانش اسکولز بل پر صوبوں کو اعتماد میں لینے سے متعلق صدر مملکت کی ایڈوائس ایوان میں پڑھ کر سنائی۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت نے بلز پر صوبوں سے مشاورت کا کہا تھا جسے نظرانداز کیا جا رہا ہے اور وفاق صوبوں کی حدود میں مداخلت کر رہا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی