سندھ میں آج بڑے سیلاب کا خطرہ

 SFERP

کراچی (آئی آر کے نیوز): پی ڈی ایم اے سندھ کے مطابق سندھ میں سیلاب سے 200 دیہات اور 2 لاکھ 24 ہزار افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، پنجاب سے آنے والا بڑا ریلا گڈو اور سکھر سے ہوتاہوا سیہون پہنچے گا جس کے باعث کچے میں بڑے سیلاب کی وارننگ جاری کردی گئی۔

ادھر سکھر اور اطراف میں بارشوں کے باعث نہروں کے حفاظتی پشتے کمزور پڑنے لگے، پنوعاقل کے قریب کورائی واہ اور مہیسرو واہ میں 3 مقامات پرشگاف پڑگئے جس سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیر آب آگئیں۔

بھارت نے دریائے ستلج میں آج پھر پانی چھوڑ دیا جس کے باعث دریائے ستلج میں بڑے سیلاب کا الرٹ جاری کردیا گیا ہے، پنجاب بھر میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں بھی جاری ہیں، دریائے چناب کا دوسرا سیلابی ریلا ملتان میں ہیڈ محمد والا کی طرف بڑھ رہا ہے، شہر کو بچانے کے لیے شیر شاہ بند میں شگاف ڈالنے کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے، فیصل آباد میں بارش کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا جبکہ لاہور میں بھی بادل جم کر برسے۔

بھارتی ہائی کمشنر نے دریائے ستلج میں ہائی فلڈ الرٹ جاری کردیا، جس کے باعث دریائے ستلج میں پھر سے بڑے سیلاب کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، دریائے ستلج میں ہریکے اور فیروزپور کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔

بھارتی ہائی کمشنر نے صبح 8 بجے وزارت آبی وسائل کو ہائی فلڈ الرٹ بھجوایا، وزارت آبی وسائل نے متعلقہ اداروں کو فلڈ الرٹ سے متعلق مراسلہ جاری کر دیا ہے۔

دریں اثنا، پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، سیکڑوں مکانات، دیہات اور فصلیں پانی میں ڈوب گئیں، دریائے چناب کا دوسرا سیلابی ریلا ملتان میں ہیڈ محمد والا کی طرف بڑھ رہا ہے، شہر کو بچانے کے لیے شیر شاہ بند کو کسی بھی وقت توڑنے کی تیاری کرلی گئی ہے اور اسے کسی بھی وقت توڑا جاسکتا ہے جبکہ اکبر بند اور گرے والا بند کی بھی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔

ملتان کے اطراف دریائے چناب سے متصل بستیوں میں متعدد بستیوں میں 5 سے 10 فٹ پانی موجود ہے، ادھر خانیوال کی تحصیل کبیروالا میں دریائے راوی اور دریائے چناب میں ایک پھر اونچے درجے کا سیلاب ہے، جس کے نتیجے میں گندم سے بھری ہزاروں بوریاں پانی میں غرق ہوگئیں۔

 

 

جدید تر اس سے پرانی