غزہ میں امداد کی تلاش میں نکلنے والے نہتے شہری ایک بار پھر اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بن گئے

 RAFAH, GAZA - DECEMBER 28: Citizens queue for food that is cooked in large pots and distributed for free during war-time on December 28, 2023 in Rafah, Gaza. More than 20,000 Palestinians in Gaza have been killed since the 7 Oct. Hamas attacks in Israel, according to Gaza's Hamas-run health ministry. Whilst 93 per cent of 2.3 million Gazans are "acutely food insecure," according to the World Food Program. (Photo by Ahmad Hasaballah/Getty Images)

فلسطینی علاقے غزہ میں امداد کی تلاش میں نکلنے والے نہتے شہری ایک بار پھر اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بن گئے۔

اسرائیلی افواج کی جانب سے جمعہ کو مختلف مقامات پر کی گئی فضائی بمباری اور فائرنگ کے واقعات میں کم از کم 60 افراد شہید ہوگئے، جن میں 31 افراد وہ تھے جو خوراک اور امدادی سامان کےلیے قطاروں میں کھڑے تھے۔

غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان محمود باسل کے مطابق، جنوبی غزہ میں پانچ افراد کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ امدادی سامان کے انتظار میں کھڑے تھے، جبکہ مزید 26 فلسطینیوں کو وسطی علاقے نیٹساریم کاریڈور کے قریب نشانہ بنایا گیا۔ یہ علاقہ اسرائیلی فوج کے زیرِ کنٹرول ہے جہاں روزانہ ہزاروں افراد خوراک کی تلاش میں پہنچتے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے بیان میں دعویٰ کیا کہ ’’مشکوک افراد‘‘ کے قریب آنے پر پہلے وارننگ فائر کیا گیا، مگر جب وہ نہ رکے تو فضائی حملے کے ذریعے انہیں ہدف بنایا گیا۔

یہ واقعات ایسے وقت پیش آئے ہیں جب اسرائیل اور امریکا کی حمایت سے قائم کردہ ’’غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن‘‘ کے تحت امدادی مراکز کھولے گئے ہیں، تاہم اقوامِ متحدہ اور بڑی بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے اس فاؤنڈیشن کے ساتھ تعاون سے انکار کیا ہے، کیونکہ ان کے مطابق یہ ادارہ اسرائیلی فوجی مقاصد کے تابع ہے۔


معصوم جانیں، تباہ حال انفرااسٹرکچر

محمود باسل کے مطابق دیئر البلح شہر اور اس کے نواح میں بھی دو مختلف حملوں میں 14 افراد جان سے گئے، جب کہ غزہ سٹی میں کی گئی تین فضائی کارروائیوں میں مزید 13 شہری شہید ہوئے۔ ان میں سے ایک حملہ فون چارجنگ اسٹیشن پر ہوا، جس میں تین افراد جاں بحق ہوئے۔

اس کے علاوہ جنوبی غزہ میں فائرنگ کے دو واقعات میں بھی دو افراد کی جان چلی گئی۔

اس وقت صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسیف نے پیاس اور بھوک کے باعث بچوں کی ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر کے مطابق غزہ میں صرف 40 فیصد صاف پانی فراہم کرنے والے پلانٹس کام کر رہے ہیں، اور غذائی قلت کے باعث چھ ماہ سے پانچ سال کی عمر کے بچوں میں شدید کمزوری کے کیسز میں 50 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔

ایلڈر نے مزید بتایا کہ انہوں نے خود ایسی ماؤں اور بچوں کو دیکھا جو خوراک کے حصول کی کوشش میں زخمی ہوئے، ان میں ایک بچہ بھی شامل تھا جو ٹینک شیلنگ کا نشانہ بن کر دم توڑ گیا۔

 

جدید تر اس سے پرانی