
واشنگٹن (آئی آر کے نیوز): امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’ایلین دشمن ایکٹ‘ کو فی الحال نافذ کرنے کی اجازت دے دی۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کی اس اجازت سے وائٹ ہاؤس کو ایک اہم کامیابی مل گئی ہے، جس سے امیگریشن حکام کو ملک بدری کے لیے ہنگامی اختیارات پر انحصار کرنے کا موقع ملے گا۔
سپریم کورٹ نے زور دیا کہ جن لوگوں کو ملک بدر کیا جاتا ہے، انہیں نوٹس ملنا چاہیے کہ وہ اس قانون کے تابع ہیں اور انہیں وفاقی عدالت کی جانب سے ہٹانے کا جائزہ لیا جائے، جہاں انہیں حراست میں لیا جا رہا ہے۔
عدالت کے 3 لبرل ججوں نے اس فیصلے سے اختلاف کیا، اور عدالت کے قدامت پسند ونگ کی رکن جسٹس ایمی کونی بیرٹ نے جزوی طور پر اختلاف کیا۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پوسٹ میں اس فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ’امریکا میں انصاف کے لیے ایک عظیم دن‘ تھا۔
دوسری جانب، ٹرمپ انتظامیہ کی فلسطین کے حامیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، امریکی یونیورسٹیوں میں پاکستانیوں سمیت 400 سے زائد بین الاقوامی طلبہ کے ویزے منسوخ کردیے گئے۔
جن یونیورسٹیوں کے طلبہ کے ویزے منسوخ کیے گئے، ان میں ہارورڈ، اسٹینفورڈ، یو سی ایل اے، یونیورسٹی آف مشی گن سمیت دیگر شامل ہیں۔ بیشتر طلبہ ویزا منسوخ ہونے کے بعد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔
امریکی حکام واضح کرچکے ہیں کہ ایسے طلبہ کے ویزے منسوخ کیے ہیں، جو اسرائیل مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے، ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ یونیورسٹیوں میں توڑپھوڑ اور افراتفری پھیلانے والوں کو ویزے نہیں دیں گے۔